طلاق کی عدت کی مدت

 

سوال: طلاق کی عدتّ کی مقدار کتنی ہے؟

اجمالی جواب:

تفصیلی جواب: اس سوال کا جواب سوره «بقره» کی آیت ۲۲۸ میں زکر کیا گیا ہے اللہ تعالی فرماتا : طلاق یافتہ عورتیں تین مرتبہ ماہواری دیکھنے (اور پاک ہونے) کا انتظار کریں (اور اس طرح عدت پوری کریں« (وَالْمُطَلَّقَاتُ یَتَرَبَّصْنَ بِاٴَنفُسِہِنَّ ثَلاَثَةَ قُرُوءٍ وَلاَیَحِلُّ)

اکثر گھریلو معاملات کی خرابی معاشرتی ڈھانچے کے لیئے ناقابل تلافی نقصانات کا باعث بنتی ہے۔ اس لیے اسلام نے ایسے قوانین اور احکام وضع کئے ہیں کہ امکان کی آخری حد تک گھریلو رشتے ٹوٹنے سے بچ جائیں۔ ایک طرف اسلام نے طلاق کو مباح اور حلال چیزوں میں سب سے زیادہ قابل نفرت قراردیاہے اور دوسری طرف گھریلو اختلافات کے لیے خاندانی عدالت کا تصور دیاہے۔ یہ عدالت رشتہ داروں پر ہی مشتمل ہوتی ہے تا کہ طرفین کے قریبی رشتہ داروں کے ذریعے صلح و آشتی کی کوئی صورت نکل آئے۔ طلاق کے معاملے کو تاخیر و التوامیں ڈالنے اور اس فیصلے کو متزلزل کرنے کے لیئے ”عدت“ مقرر کی گئی ہے جس کی مدت تین ”قرو“ ہے جس کا ذکر زیر نظر آیت میں کیاگیاہے۔

قروء“ سے کیا مراد ہے

"قروء کا واحد”قرء“ یہ لفظ ”ماہواری کی عادت “ اور اس سے پاک ہونے کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے اگرچہ بہت سی روایات میں تصریح کی گئی ہے کہ ”ثلاثہ قروء“ عدت کی حد ہے اور اس کا مفہوم ہے عورت کا خون حیض سے تین مرتبہ پاک ہونا، ان روایات سے قطع نظر خود اس آیت کا یہ مفہوم دو طرح سے معلوم ہوتاہے۔

۱۔ ”قروء“ کی دو جمع ہیں ”قرء“ اور ”اقراء“ وہ قرء جس کی جمع قروء ہے پاک ہونے کے معنی میں ہے اور جس کی جمع ”اقراء ہے اس کا مطلب ہے ”حیض"

اس لیے زیر بحث آیت میں چونکہ ”قرو“ آیاہے اس سے معلوم ہوتاہے کہ یہاں مراد عورت کے پاک ہونے کے دن ہیں نہ کہ حیض کے ایام۔

۲۔ لغت میں ”قرو“ کا اصلی معنی ”طہر“ اور بہ معنی پاکی سے ہی زیادہ مناسبت رکھتاہے کیونکہ یہی وہ موقع ہے جب خون رحم میں جمع ہوجاتاہے جب کہ عادت کے دنوں میں تو پراگندہ ہوکر باہر نکل آتاہے۔

عدت۔ صلح اور بازگشت کا ذریعہ ہے ۱۔

حوالہ جات: 1-تفسیر نمونه، جلد 2، صفحه 185

 

No comments:

Post a Comment